Got a TV Licence?

You need one to watch live TV on any channel or device, and BBC programmes on iPlayer. It’s the law.

Find out more
I don’t have a TV Licence.

لائیو رپورٹنگ

time_stated_uk

  1. یہ صفحہ مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا!

    پاکستان کی سیاسی صورتحال سے متعلق تازہ ترین خبروں کے حوالے سے بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم اس صفحے کو مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔

    دو فروری کی تازہ ترین خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. شیخ رشید کی گرفتاری کو عدالت میں چیلنج کریں گے: راشد شفیق

    شیخ رشید کے بھتیجے راشد شفیق نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔

    ان کا کہنا ہے مجھے ملازمین نے فون کرکے بتایا ہے کہ ’پولیس کا 300-400 بندہ گھر میں گھسا ہے اور انھیں گرفتار کرکے لے گئے ہیں۔‘

    راشد شفیق کا مزید کہنا تھا کہ انھیں اسلام آباد ہائی کورٹ سے ریلیف مل گیا تھا مگر اس کے باوجود انھیں گرفتار کیا گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس گرفتاری کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔

  3. تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے شیخ رشید کی گرفتاری کی مذمت

    تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے شیخ رشید کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔

    عمران خان کا کہنا ہے کہ ہماری تاریخ میں کبھی بھی الیکشن کمیشن کی طرف سے اتنی متعصب، انتقام لینے والی نگران حکومت نہیں آئی۔

    ’سوال یہ ہے کہ ایسے میں جب ہم دیوالیہ ہو چکے ہیں کیا پاکستان سڑکوں پر کسی عوامی تحریک کا متحمل ہو سکتا ہے؟‘

    View more on twitter
  4. بریکنگعوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد گرفتار

    پنجاب پولیس نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کو گرفتار کر لیا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق عوامی مسلم لیگ کے سربراہ کو گرفتار کرکے اسلام آباد پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہےتاہم انھیں کہاں سے گرفتار کیا گیا ہے اس بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

    گرفتاری کے بعد نجی ٹی سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے دعویٰ کیا کہ ’100-200 لوگ سیڑھیاں لگا کر دروازے توڑ کر اندر داخل ہوئے ہیں اور بدتمیزی کی ہے، تمام ملازمین کو مارا ہے اور مجھے زبردستی گاڑی میں ڈال کر لے آئے ہیں۔‘

    سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں ان کا کہنا تھا کہ آج ہی میاں طاہر نے میری ضمانت لی۔ شیخ رشید نے الزام لگایا کہ ’یہ سب کچھ مسلم لیگ ن اور رانا ثنا اللہ کے کہنے پر ہو رہا ہے۔‘

    یاد رہے شیخ رشید احمد کے خلاف پی پی راولپنڈی کے ڈویژنل صدر راجہ عنایت الرحمان نے مقدمہ درج کروایا تھا۔

    View more on twitter
  5. پی ٹی آئی رہنما شاندانہ گلزار خان کے خلاف ’غداری‘، ’نفرت کو ہوا دینے‘ کا مقدمہ درج

    پاکستان تحریکِ انصاف کی رہنما اور مخصوص نشستوں پر رکنِ قومی اسمبلی رہنے والی شاندانہ گلزار کے خلاف غداری، مختلف گروہوں کے درمیان نفرت کو ہوا دینے اور عوام میں اشتعال و بغاوت پھیلانے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    یہ مقدمہ اسلام آباد کے مجسٹریٹ عبدالہادی کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے اور اس میں الزام لگایا گیا ہے کہ اُنھوں نے ’دہشت گردی کو مختلف صوبوں، جماعتوں اور اداروں کے ساتھ جوڑ کر ملک میں بے چینی، بدامنی اور صوبائی تعصب پھیلانے کی کوشش کی ہے۔‘

    مدعا علیہ کے خلاف الزامات ان کے ایک ٹی وی پروگرام میں دیے گئے انٹرویو کو بنیاد بنا کر لگائے گئے ہیں۔

  6. فواد چوہدری کو رہا کر دیا گیا

    اب سے کچھ دیر قبل ہم نے آپ کو خبر دی تھی کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری کی رہائی کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔

    اب فواد چوہدری کو ضابطے کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد اڈیالہ جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔

  7. جنرل (ر) باجوہ سے اختلافات تب ہوئے جب اُنھوں نے ’این آر او دینے کو کہا‘: عمران خان

    عمران خان

    سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جنرل باجوہ سے ان کے کوئی اختلافات نہیں تھے اور اچھے کام ہوئے جب اسٹیبلشمنٹ اور حکومت ایک پیج پر تھے۔

    اپنے ایک خطاب میں اُنھوں نے کہا کہ ہر چیز میں ہم اس وقت اکٹھے چل رہے تھے، اختلاف پہلے پیدا یہ ہوا تھا کہ جب سابق آرمی چیف نے مبینہ طور پر دوسری سیاسی جماعتوں کو این آر او دینے، احتساب کا مؤقف چھوڑنے، اور نیب قوانین میں ترمیم کرنے کا کہا جس سے عمران خان نے کہا کہ اُنھوں نے انکار کر دیا۔

    اُنھوں نے کہا کہ دوسرا اختلاف جنرل فیض کے معاملے پر ہوا۔ ’میں اس وقت سمجھتا تھا کہ 2021 اور 2022 کی سردیاں افغان صورتحال کی وجہ سے مشکل ہوں گی، اس لیے میں چاہتا تھا کہ جنرل فیض کو اس وقت تک رکھا جائے، کیونکہ اس وقت سب سے بہترین انٹیلیجنس سربراہ کو اس وقت عہدے پر ہونا چاہیے۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ افغان حکومت کے ساتھ ہمارے تعلقات اچھے ہوں گے تو پاکستان دہشتگردی سے بچ جائے گا۔ اُنھوں نے کہا کہ ہم نے دنیا کو بتایا کہ پاکستان میں دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے مستحکم افغانستان ضروری ہے۔

    ’جنرل باجوہ اور میں نے بیٹھ کر گفتگو کی کہ افغانستان میں جب ایک پاکستان کی حامی حکومت ہے تو ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ 30 سے 40 ہزار طالبان جنگجو اور ان کے خاندان جو افغانستان میں ہیں، انھیں پاکستان میں کیسے سیٹل کیا جائے۔‘

    عمران خان نے کہا کہ میٹنگ میں موجود ایک بیوروکریٹ، مراد سعید اور نورالحق قادری نے بتایا کہ یہ کافی مشکل کام ہو گا۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ قبائلی علاقے کے ایم این ایز اور سکیورٹی فورسز اس کی منصوبہ بندی کریں گے کہ ان لوگوں کو یہاں کس طرح بسائیں گے۔

    عمران خان نے کہا کہ ہماری ان سے یہ بات ہوئی مگر یہ بات آگے نہیں بڑھی کیونکہ ہماری حکومت چلی گئی۔

    پی ٹی آئی سربراہ نے پشاور میں پولیس لائن پر حملے کے حوالے سے کہا کہ لوگوں کی تدفین ہی نہیں ہوئی اب تک نہ ہی کوئی تجزیہ ہوا ہے کہ گورنر نے الیکشنز ملتوی کرنے کا خط لکھ دیا۔

    عمران خان نے کہا کہ اس وقت لوگوں میں پہلے ہی عدم اعتماد ہے اور گورنر کہہ رہا ہے کہ الیکشنز ملتوی کر دیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ وہ دہشتگردی اور معاشی بدحالی کے حوالے سے اس وقت کا تو جواب دے سکتے ہیں جب وہ اقتدار میں تھے، مگر جب اب وہ اقتدار میں نہیں ہیں تو ان سے کیوں پوچھا جا رہا ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ ’سترہ سال میں بہترین اقتصادی کارکردگی دکھانے والی حکومت‘ کو ’رجیم چینج‘ کے ذریعے ہٹا دیا گیا۔

    ’میں بار بار جنرل باجوہ کو کہتا رہا کہ یہ آپریشن کامیاب نہیں ہونے دیں کیونکہ یہ نہیں سنبھال سکیں گے مگر وہی ہوا اور یہ نہیں سنبھال سکے۔‘

  8. فواد چوہدری کے روبکار جاری

    ایڈیشنل سیشن جج فیضان حیدر گیلانی نے الیکشن کمیشن کو دھمکی دینے کے کیس میں فواد چوہدری کی رہائی کے روبکار جاری کر دیے ہیں جنھیں دیکھ کر اڈیالہ جیل کا عملہ فواد چوہدری کو رہا کرے گا۔

  9. فواد چوہدری کی ضمانت کی درخواست منظور

    شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    فواد چوہدری

    اسلام آباد کی مقامی عدالت نے سابق وفاقی وزیر اور پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری کی ضمانت کی درخواست منظور کرلی ہے۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ وہ اس شرط پر ملزم کی درخواست ضمانت منظور کر رہے ہیں کہ وہ ’دوبارہ ایسی گفتگو نہیں کریں گے۔‘

    ایڈشنل سیشن جج فیضان حیدر گیلانی کی عدالت نے ملزم فواد چوہدری کی طرف سے ضمانت کی درخواست کی سماعت کی تو ملزم کے وکیل بابر اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شخص کے خلاف غداری کا مقدمہ ریاست کی طرف سے دائر کیا جاتا ہے جبکہ ان کے موکل کے خلاف یہ مقدمہ سیکرٹری الیکشن کمیشن کی طرف سے دائر کیا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ سیکرٹری الیکشن کمیشن ایک ریٹائرڈ بیوروکریٹس ہیں اور ایک ریٹائرڈ بیوروکریٹس کو ریاست کا درجہ نہیں دیا جاسکتا۔ انھوں نے کہا کہ سیاسی طور پر بنائے گئے مقدمات کا نہ تو ملکی آئین اور قانون میں کوئی اہمیت ہے۔ اس مقدمے کے پراسیکیوٹر اور الیکشن کمیشن نے وکیل نے ملزم کی طرف سے ضمانت کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ملزم ابھی بھی اپنے اس بیان پر قائم ہے جس میں انھوں نے الیکشن کمیشن کے حکام کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی تھیں۔

    انھوں نے کہا کہ جب ملزم اس پر بضد ہو کہ اس نے جو کہا وہ ٹھیک ہے تو پھر کیسے کسی ملزم کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے اس کی ضمانت کو منظور کیا جاسکتا ہے۔

    عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ملزم فواد چوہدری کی ضمانت منظور کرلی اور ملزم کے وکلا کو بیس ہزار روپے کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا۔

  10. اسلام آباد کی کچہری میں سکیورٹی انتظامات نامناسب

    شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    پشاور میں پولیس لائن پر خودکش حملے کے بعد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی جانب سے رجسٹرار ہائیکورٹ کو بھیجی گئی رپورٹ میں وفاقی دارالحکومت کی ضلع کچہری کی سکیورٹی صورتحال کو خطرناک قرار دیا گیا ہے۔

    اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’کچہری کے واک تھرو گیٹس، سی سی ٹی وی کیمرے اور ایل ای ڈیز سب خراب ہیں جبکہ ڈپٹی کمشنر آفس، سپیشل برانچ اہلکاروں کی تعیناتی کے لیے تیار نہیں ہے۔‘

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’عدالتوں، سائلین اور وکلا کو فول پروف سکیورٹی کی فراہمی اسلام آباد انتظامیہ اور چیف کمشنر کی ذمہ داری ہے تاہم یہ دونوں انتظامات کرنے میں ناکام رہے ہیں۔‘

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2014 کے دہشت گرد حملے کے بعد ضلع کچہری میں رینجرز کی تعیناتی کی گئی لیکن کچھ عرصے کے بعد سیشن ججز کو بغیر بتائے رینجر کی تعیناتی واپس لے لی گئی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کچہری کے انٹری پوائنٹس پر واک تھرو گیٹ نصب خراب ہیں۔ ’کچہری کی حدود میں نصب تقریباً تمام سی سی سی ٹی وی کیمرے ٹھیک کام نہیں کر رہے۔ سی سی ٹی وی روم میں پڑی ایل ای ڈیز اور یو پی ایس ایک لمبے عرصے سے خراب پڑے ہیں اور بار بار کی درخواست کے باوجود ڈپٹی کمشنر آفس سکیورٹی انتظامات اور کیمرے نصب کرنے میں ناکام رہا۔‘

    اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپیشل برانچ کے اہلکار کچہری کے انٹری پوائنٹس پر تعینات تھے، انھیں واپس لے لیا گیا جبکہ عدالت نے سپیشل برانچ کے اہلکاروں کی تعیناتی سے متعلق تحریری کہا ’لیکن ان کا جواب نفی میں تھا۔‘

  11. عمران خان کا آج شام ساڑھے پانچ بجے قوم سے ’اہم خطاب‘

    رہنما تحریک انصاف مسرت جمشید چیمہ نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان آج ساڑھے پانچ بجے قوم سے اہم خطاب کریں گے۔

    ’خطاب میں قوم کو ملکی صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا جائے گا۔‘

    View more on twitter
  12. بریکنگدہشتگردوں کو کون واپس لایا اور کس نے کہا تھا یہ جہادی پاکستان کے دوست ہیں؟: وزیر اعظم شہباز شریف

    Shahbaz Sharif

    پاکستان کے وزیر اعظم نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کا ناسور دوبارہ سر اٹھارہا ہے، سوال یہ ہے کہ ان دہشت گردوں کو کون واپس لایا؟ کس طرح دوبارہ پاکستان کا امن خراب ہوا؟ کس نے کہا تھا یہ جہادی ہیں اور پاکستان کے دوست ہیں؟ کس نے کہا تھا ان لوگوں نے ہتھیار ڈال دیے اور یہ ملک کی ترقی میں حصہ لیں گے۔

    وزیراعظم نے دہشت گردی کے خاتمے کا عزم دہراتے ہوئے کہا کہ فوری طور پر مناسب اقدامات نہ کیے تو دہشتگردی پاکستان میں پھیل جائے گی۔

    پشاور مسجد حملے کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے بہادر اور غیور عوام کی ہمت کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتے، پشاور حملے میں جانیں قربان کرنے والوں کو پاکستان ہمیشہ یاد رکھے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ انسداد دہشتگردی کے اقدامات کی مد میں این ایف سی ایوارڈ کے تحت گذشتہ 10 برسوں میں 417 ارب روپے خیبرپختونخوا کو ادا کیے جا چکے ہیں تاکہ اس حوالے سے ان کی جائز ضروریات پوری ہوسکیں۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ یہ 417 ارب روپے خاص طور پر انسداد دہشتگردی کے اقدامات کے لیے مختص تھے، خدا جانے اتنے بڑی رقم کہاں چلی گئی، 10 سال وہاں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت رہی، آج وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس وسائل نہیں ہیں تو یہ 417 ارب روپے کہاں گئے؟ کہاں استعمال ہوئے؟

    انھوں نے کہا کہ اس تمام عرصے کے دوران کسی اور صوبے کو اس مد میں کوئی رقم نہیں دی گئی، صرف خیبرپختونخوا کو یہ رقم ادا کی گئی، میں یہاں سیاسی پوائنٹ سکورنگ نہیں کررہا بلکہ حقائق پر بات کررہا ہوں۔

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’آپ کو 40 ارب سال کا مل رہا ہو تو پھر آپ کا یہ شکوہ بنتا نہیں ہے کہ ہمارے محکمہ انسداد دہشتگردی میں کمزوریاں ہیں یا ان کے پاس مطلوبہ سامان اور تربیت نہیں ہے، یہ سب باتیں ناقابل یقین ہیں، فنڈز نہ ملنے کا شکوہ کرنا حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش ہے۔‘

  13. پچھلے چھ ماہ کا ریکارڈ دیں کون کون سے نیب مقدمات دوسرے فورم پر بھیجے گئے: چیف جسٹس

    SC

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کے باعث ختم ہونے والے کیسز کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔

    بدھ کو ایک کرپشن کیس میں نیب کی جانب سے ملزم کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے نیب کو ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیب ترامیم کے بعد کون کون سے مقدمات متعلقہ فورم پر بھیجے گئے؟ اس کا ریکارڈ پیش کیا جائے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ترامیم کی وجہ سے کوئی بری نہیں ہو رہا بلکہ کیسز منتقل ہو رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ نیب ترامیم سپریم کورٹ میں چیلنج ہیں اور اس متعلق ابھی عدالت نے فیصلہ کرنا ہے۔ چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ نیب ان مقدمات کے ساتھ کیا کر رہا ہے جو ترامیم کی وجہ سے احتساب عدالتوں سے واپس آ رہے؟

    جس پر نیب پراسکیوٹر نے جواب دیا کہ احتساب عدالتوں سے واپس آنے والے مقدمات کے لیے نظرثانی کمیٹی قائم ہے جو کیسز متعلقہ فورم کو بھیج رہی۔

    جس پر چیف جسٹس پاکستان نے نیب کو حکم دیا کہ پچھلے چھ ماہ کا ریکارڈ دیں کون کون سے نیب مقدمات دوسرے فورم پر بھیجے گئے ہیں۔

  14. ’دہشتگردوں سے مذاکرات کیوں کیے جا رہے ہیں، ان سے کب تک ڈریں گے‘: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    پاکستان کی سپریم کورٹ کے سنئیر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا ہے کہ ’دہشتگردوں سے مذاکرات کیوں کیے جارہے ہیں اور ان سے کب تک ڈریں گے۔‘

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران پشاور پولیس لائنز کی مسجد میں خودکش حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’دہشتگردوں سے کب تک ڈریں گے؟ کبھی کہا جاتا ہے کہ دہشتگردوں کو یہ دو وہ دو اور کبھی کہا جاتا ہے دہشتگردوں سے مذاکرات کرو۔‘

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ’دہشتگردوں سے مذاکرات کیوں کیے جا رہے ہیں؟ انھوں نے کہا کہ آج دہشتگرد دو بندے ماریں گے کل کو پانچ بندے مار دیں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ پتہ نہیں ہم کس معاشرے میں رہ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ لمبی داڑھی رکھنے سے بندہ مسلمان یا اچھا انسان نہیں بن جاتا۔

    انھوں نے سوال اٹھایا کہ اس دوران ریاست کہاں ہے؟ ہمارے ایک جج کو مار دیا گیا کسی کو پرواہ ہی نہیں ہے۔

    اپنے ریمارکس میں جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپنا نام لیے بغیر کہا کہ ایک جج نے دہشتگردی کے واقعہ پر رپورٹ دی اس کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔

    واضح رہے کہ اگست سنہ 2016 میں کوئٹہ میں وکلا برادری کو شدت پسندی کا نشانہ بنایا گیا تھا اوراس وقت کے چیف جسٹس نے اس واقعہ کا از خود نوٹس لیتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں ایک عدالتی کمیشن تشکیل دیا تھا۔ جس نے اپنی رپورٹ میں حکومت اور خفیہ اداروں کی خامیوں کی نشاندہی کی تھی۔

    تاہم اس رپورٹ میں اس وقت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان خوش نہیں تھے۔

  15. سپریم کورٹ نے نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب کی تعیناتی کے خلاف شیخ رشید کی درخواست اعتراض لگا کر واپس کر دی

    محسن نقوی

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے اپوزیشن رہنما اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی جانب سے پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی کی تعیناتی کے خلاف درخواست اعتراض لگا کر واپس کر دی ہے۔

    رجسٹرار سپریم کورٹ کی جانب سے شیخ رشید کی درخواست پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ درخواست گزار نے اپنی درخواست میں یہ واضح نہیں کیا کہ اس معاملے میں مفاد عامہ کے کون سے امور متاثر ہوئے ہیں اور اس تعیناتی سے آئین کی کون سے بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہے۔ سپریم کورٹ کا فورم اس کے لیے مناسب نہیں ہے۔

    رجسٹرار کی طرف سے کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نے متعلقہ فورم سے رجوع نہیں کیا اور آئین کے آرٹیکل 184 کی شق تین کے تحت وزیر اعلیٰ کی تعیناتی سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی اور فریق کو اس کی کاپی بھی فراہم نہیں کی۔

    رجسٹرار کی جانب سے اعتراض لگایا گیا ہے کہ درخواست گزار نے اپنی درخواست میں نامناسب زبان استعمال کی ہے۔ درخواست گزار نے درخواست دائر کرنے کا واضح مقصد بھی بیان نہیں کیا گیا۔

    واضح رہے گذشتہ روز پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب کی تعیناتی پر دائر درخواست کو بھی اعتراض لگا کر واپس کر دیا تھا۔

  16. مریم نواز کے ملک گیر تنظیمی دوروں کا شیڈول جاری، آج بہاولپور جائیں گی

    مریم نواز

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نواز کے ملک گیر تنظیمی دوروں کا شیڈول جاری کر دیا گیا ہے اور آج وہ بہاولپور کا دورہ کریں گی۔

    مسلم لیگ ن کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق مریم نواز بہاولپور ڈویژن سے تنظیمی سرگرمیوں کا آغاز کریں گی جہاں وہ آج تنظیمی کنونشن سے خطاب کریں گی۔

    تنظیمی کنونشن میں نئے عہدیداران پارٹی میں شامل ہوں گے اور بہاولپور میں پارٹی کے مقامی عہدیداروں کا تنظیمی اجلاس بھی منعقد ہو گا۔

    مریم نواز کی صدارت میں موجودہ تنظیمی ڈھانچے کا جائزہ لیا جائے گا اور پارٹی کے مقامی عہدیداروں اور کارکنوں کے اجلاس میں تنظیمی امور پر غور کیا جائے گا۔

    مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر اور وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ بھی ان کے ہمراہ ہوں گے۔

  17. وزیراعظم شہباز شریف کی تھانہ مکڑوال پر حملہ ناکام بنانے پر پنجاب پولیس کو شاباش

    shahbaz

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے میانوالی کے تھانہ مکڑوال پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنانے پر پنجاب پولیس کو شاباش دیتے ہوئے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کرنے والے پولیس افسران اور جوانوں کو انعام اور تعریفی اسناد دینے کا اعلان کیا ہے۔

    وزیر اعظم دفتر سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے دہشت گردوں کو بھگانے والے پنجاب پولیس کے افسران اور جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس دہشت گردی اور جرائم کے خاتمے میں ہمارا قابل فخر ہراول دستہ ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف پوری قوم اور ادارے متحد اور ایک آواز ہیں۔

    وزیر اعظم کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے خاتمے میں پنجاب پولیس اور سی ٹی ڈی کا کردار اور جذبے پر پوری قوم کو فخر ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خاتمے کےلئے اپنی بہادر فورسز کے ساتھ ہیں

    پولیس اور سی ٹی ڈی کو مزید مضبوط اور جدید ہتھیاروں سے لیس کیا جائے گا۔

  18. پشاور بم دھماکے میں ہلاکتیں 101 ہو گئی، 49 زخمی زیر علاج

    پشاور دھماکہ

    پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے شہر پشاور کی پولیس لائن مسجد میں ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 101 ہو گئی ہے جبکہ 49 زخمی افراد ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

    لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان ڈاکٹر عاصم کے مطابق اب تک 101 افراد کی لاشیں ہسپتال لائی جا چکی ہیں جبکہ اس وقت بم دھماکے کے 49 زخمی افراد زیر علاج ہیں۔

    ڈاکٹر عاصم کے مطابق زیر علاج افراد میں سے سات افراد کی حالت تشویشناک ہے جبکہ زیادہ تر زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

  19. ’پولیس چھاپے میں دو کالے ویگو کیا انڈین جاسوس ڈھونڈ رہے تھے؟‘: مونس الہی

    پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما مونس الہی نے پولیس کی جانب سے گجرات میں ان کی رہائش گاہ پر چھاپے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کیا پولیس ہمارے گھر پر کوئی انڈین جاسوس ڈھونڈ رہی تھی۔

    انھوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’کل رات پولیس نے ہمارے گجرات کے گھر پر چھاپہ مارا ہے، جس کا نہ کوئی کوئی وارنٹ تھا اور نہ ہی کوئی کیس۔ پولیس کی 25 گاڑیوں کی تو سمجھ آتی ہے پر یہ ساتھ دو کالے ویگو کیا کر رہے تھے؟ انڈین جاسوس ڈھونڈ رہے تھے؟‘

    View more on twitter
  20. بریکنگپولیس کا پرویز الہٰی کے گھر پر چھاپہ، ’دہشتگردوں کو پوچھنے کی بجائے ہمیں تنگ کیا جا رہا ہے‘

    Pervaiz Elahi

    پولیس نے گجرات کے علاقے کنجاہ میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کے گھر پر چھاپہ مارا ہے۔

    پولیس کی بھاری نفری نے پرویز الہٰی کے گھر کو گھیرے میں لے لیا، نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے بات کرتے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہی نے پولیس کے چھاپے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ سیاسی ہتھکنڈے آزمائے جا رہے ہیں اور اس سلسلے میں وہ عدالت سے رجوع کریں گے۔

    تاہم پولیس کی جانب سے اب تک اس چھاپے سے متعلق کوئی تفصیل جاری نہیں کی گئی ہے۔

    جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ ’پولیس رات تین چار بجے سے گجرات میں ان کے ظھور الہیٰ ہاؤس کے باہر بھاری نفری میں موجود ہے اور پولیس ہمارے ملازمین کو ہراساں کر رہی ہے۔‘

    انھوں نے نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ’یہ چھاپہ انتقامی سیاست کا ثبوت ہے اور یہ شریفوں کے کہنے پر کیا گیا ہے۔ یہ دہشتگردوں کو پوچھنے کی بجائے ہمیں تنگ کر رہے ہیں۔ ان سے نہ دہشت گردی نہ ملکی معیشت سنبھالی جا رہی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’یہ اس حکومت کا مینڈیٹ نہیں ہے اور اس کے خلاف وہ عدالت سے رجوع کر رہے ہیں۔ عدلیہ پر یقین ہے انھیں عدالت سے سزا دلوائیں گے۔ اور اس واقعے پر پورا گجرات احتجاج میں باہر نکلے گا۔‘

    واضح رہے کہ چوہدری پرویز الہیٰ گجرات والے گھر پر موجود نہیں ہیں جبکہ مونس الہیٰ ملک سے باہر ہیں۔