حکومتی اتحاد کا فل بینچ کا مطالبہ: کیا عدلیہ کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) اور حکومتی اتحاد کا بیانیہ تبدیل ہو رہا ہے؟

  • منزہ انوار
  • بی بی سی اردو، اسلام آباد
Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کے متنازع الیکشن کے خلاف تحریک انصاف کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے گذشتہ روز سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کو بطور ٹرسٹی وزیر اعلی فرائض ادا کرنے کا حکم دیا جس کے بعد مسلم لیگ (ن) اور متحدہ حکومتی اتحاد کی جانب سے تین رکنی بنچ کے فیصلے پر کڑی تنقید سامنے آ رہی ہے اور فل کورٹ بنچ بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

مسلم لیگ اور حکومتی اتحاد کے رہنماؤں سے لے کر ان کے حمایتی افراد کی جانب سے یہ سوال کیا جا رہا ہے ہے کہ سپریم کورٹ کے جس حکم کے مطابق تحریکِ انصاف کا کوئی رکن پارٹی ہیڈ یعنی عمران خان کی مرضی کے خلاف ووٹ نہیں دے سکتا، اسی فیصلے کی رو سے چوہدری شجاعت کو یہ اختیار کیوں حاصل نہیں؟

مسلم لیگ کی رہنما مریم نواز نے عدالتی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا 'اگر انصاف کے ایوان بھی دھونس، دھمکی، بدتمیزی اور گالیوں کے دباؤ میں آ کر بار بار ایک ہی بنچ کے ذریعے مخصوص فیصلے کرتے ہیں، اپنے ہی دیے فیصلوں کی نفی کرتے ہیں، سارا وزن ترازو کے ایک ہی پلڑے میں ڈال دیتے ہیں تو ایسے یک طرفہ فیصلوں کے سامنے سر جھکانے کی توقع ہم سے نہ رکھی جائے۔ بہت ہو گیا۔‘

مسلم لیگ (ن) اور حکومتی اتحاد کے دیگر رہنماؤں کی جانب سے بھی سپریم کورٹ کے اس حکم پر تنقید سامنے آ رہی ہے اور چیف جسٹس پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے حوالے سے دائر درخواست پر فل کورٹ بینچ تشکیل دیں۔

خواجہ سعد رفیق '63 اے پر سپریم کورٹ کی رائے آئین سے متصادم ہے‘

مسلم لیگ کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے بھی گذشتہ رات لاہور میں مسلم لیگ کے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین بنانے کا حق پارلیمنٹ کو ہے آئین بنانے اور لکھنے کا حق محترم عدالت کو نہیں ہے، عدالت آئین کی تشریح کرے گی اور 63 اے پر جو سپریم کورٹ کی رائے ہے ہم سمجھتے ہیں وہ آئین سے متصادم ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے پنجاب کے ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کو عدالت طلب کیے جانے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے مسلم لیگ کے رہنما احسن اقبال نے سوال کیا کہ تحریکِ انصاف کے رہنما اور ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری پر دوست مزاری سے زیادہ سنگین الزامات تھے، کیا انھیں بھی طلب کیا گیا تھا؟

مسلم لیگ کے رہنما عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ قاسم سوری کا تو سٹے آرڈر ڈیڑھ سال سے اوپر چل رہا ہے۔ 25 لوگ فوری انصاف کے تحت ڈی سیٹ اور قاسم سوری کی سیٹ سٹے آرڈر کے تحت بچا لی گئی۔ اس کیس کا فیصلہ آج تک کیوں نہ ہو سکا؟

پیپلزپارٹی: عمران خان کے بارے میں قانون بھی موم بن جاتا ہے

سپریم کورٹ کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے حکومتی اتحاد میں شامل وفاقی وزیر اور ترجمان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز شازیہ مری نے سوال کیا کہ مسلم لیگ ق کے صدر کے خط کی اہمیت نہیں تو 20 ڈی سیٹ کیے گئے ایم پی ایز کا قصور کیا تھا؟

شازیہ مری کا کہنا تھا کہ عمران خان کے بارے میں قانون بھی موم بن جاتا ہے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ عمران خان اداروں کی توہین کرتے ہیں مگر ان کی دھمکیاں بھی توہین کے زمرے میں نہیں آتیں۔ شازیہ مری نے عدالت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے جب اپنے ایم پی ایز کو ووٹ کے حوالے سے ہدایت دی تو وہ جائز تھی اور اگر وہی ہدایت مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت نے دی تو ناجائز کیسے ہو گئی؟

مولانا فضل الرحمن: ہر سیاسی مقدمہ یہی دو تین حضرات سنتے ہیں

جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ حکومتی اتحاد میں شامل تمام جماعتوں کا متفقہ مطالبہ ہے کہ عدلیہ کے وقار کی بقا اسی میں ہے کہ اس کیس کی سماعت فل کورٹ ہی کرے کیونکہ ہم فل بینچ کے سامنے اپنا موقف رکھنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر سیاسی مقدمہ یہی دو تین جج حضرات سنتے ہیں، انھوں نے کہا کہ ججوں کو ایسی صورتحال سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اگر کسی فریق کے ان کے بارے میں تحفظات ہیں تو انھیں ایسے مقدموں کی نہ سماعت کرنی چاہیے نہ ایسے بینچوں کا حصہ بننا چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images/FacebookHamza

'یہ دوبارہ سپریم کورٹ پر حملے کا ارادہ رکھتے ہیں‘ فواد چوہدری کا الزام

دوسری جانب پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے مسلم لیگ نواز پر ججز محالف مہم اور ٹرینڈز چلانے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔

اب سے کچھ دیر قبل میڈیا سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ عدلیہ کے خلاف بیانیہ بنانے کی کوشش ہو رہی ہے، عدالتوں کو بلیک میل کرنے کی کوشش ہو رہی ہے اور یہ (مسلم لیگ ن) دوبارہ سپریم کورٹ پر حملے کا ارادہ رکھتی ہے جس پر ہمیں بڑی تشویش ہے۔

اس سے قبل فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ‘نون لیگ کو لگا عمران خان کے خلاف اسٹیبلشمنٹ سے نتھی ہو کر بڑی غلطی ہو گئی، مریم نواز اب اینٹی اسٹیبلشمنٹ چورن بیچیں، عدلیہ کے خلاف بیانات شروع ہوگئے فوج کے خلاف اگلے چند دنوں میں شروع ہو جائیں گے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نون لیگ کی حکمت عملی نون لیگ کو سیاست سے مکمل باہر کر دے گی لیکن اداروں کو نقصان ہو گا، ادارے اس گرداب میں اپنی قیادت کی غلطیوں سے پھنسے ہیں اپنی حدود میں رہتے تو کچھ نہیں تھا لیکن بہرحال اب اداروں کو نون لیگ نے ٹارگٹ کرنا ہے۔‘

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

کچھ افراد پاکستان مسلم لیگ ن پر تنقید کرتے ہوئے یہ بھی کہ رہے ہیں کہ کچھ دن قبل انھوں نے نہ صرف قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کے خلاف عدالتی فیصلہ مانا تھا بلکہ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت اس عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کی بھی پابند ہے اور اسی لیے وفاقی حکومت نے آرٹیکل چھ کے تحت ریفرنس دائر کرنے پر کام شروع کر دیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) اور حکومتی اتحاد میں شامل رہنماؤں کے حالیہ بیانات کے بعد اکثر افراد یہ سوال بھی کر رہے ہیں کہ کیا اب عدلیہ کے حوالے سے مسلم لیگ ن اور اتحادیوں کا بیانیہ تبدیل ہو رہا ہے؟

یادرہے سپریم کورٹ کی جانب سے 86 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو مسترد کر کے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے بادی النظر اپنی آئینی ذمہ داری کی خلاف ورزی کی ہے۔

جس کے بعد رانا ثنا اللہ خان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں آرٹیکل چھ کا قانون کی رو سے ریفرنس بنتا ہے اور دوسرا راستہ یہ اختیار کیا جا سکتا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی اس فیصلے کے تحت ملوث افراد کے خلاف نااہلی کا ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجا جائے اور الیکشن کمیشن ان کو ناصرف ڈی سیٹ کرے بلکہ قانون کے مطابق ان کو نااہل قرار دے اور آگے کی کارروائی کا فیصلہ کرے۔

ماہرِ قانون ایڈوکیٹ عابد ساقی کا ماننا ہے کہ یہ عدلیہ مخالف مہم نہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ ملک کے عدالتی نظام میں جن لوگوں کے سٹیکس اور حقوق ہیں انھیں مدِنظر رکھتے ہوئے فل کورٹ کا مطالبہ کرنا کوئی عدلیہ مخالف مہم نہیں ہے۔

‘بھٹو نے مولوی مشتاق پر اعتراض کیا تھا مگر اسی جج کے ذریعے بھٹو کو پھانسی دلوائی گئی‘

عابد ساقی کہتے ہیں کہ مدعی کا حق ہے کہ وہ بینچ پر اعتراضات کر سکتا ہے اور پھر سپریم کورٹ اس اعتراض کو دیکھ کر فیصلہ کرتی ہے کہ ججز نے بنچ سے علیحدہ ہونا ہے یا نہیں اور یہ کوئی نئی بات نہیں یہ ہمارے کلچر کا حصہ ہے۔

وہ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف چلنے والے مقدمے میں مولوی مشتاق کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ‘بھٹو صاحب نے اعتراض اٹھایا تھا کہ یہ میرا دشمن ہے اور اس بنچ میں بیٹھا ہے لیکن پھر اسی مولوی مشتاق کے ذریعے بھٹو کو پھانسی دلوائی گئی۔‘

یہ بھی پڑھیے

حکومتی اتحاد کے فل کورٹ کے مطالبے کے متعلق ایڈوکیٹ عابد ساقی کہتے ہیں کہ یہ ایک آئینی مسئلہ ہے اور آئین کی تشریح کے لیے اگر ایک فریق کہتا ہے کہ یہ ایک بہت سنگین مسئلہ ہے اور اس کے لیے وہ لارجر بنچ بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔

،تصویر کا ذریعہSUPREME COURT OF PAKISTAN

،تصویر کا کیپشن

تین رکنی بنچ میں جسٹس عمر عطا بندیل، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر شامل ہیں

سپریم کورٹ کی ساکھ پر جو اٹھنے والی انگلیاں اٹھ رہی ہیں، اس کا واحد حل یہی ہے کہ اس نوعیت کے کیسز فل کورٹ یا سینئیر ججز سنیں

ایڈوکیٹ فیصل صدیقی کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے کل آنے والی درخواست کو دیکھنا ہو گا کہ اس میں ججز پر اعتراض ہے یا فل کورٹ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بنا کسی ثبوت کے ججز پر اعتراض ایک غلط طریقہ کار ہے۔

بی بی سی بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یقیناً ماضی میں بھی ججز پر اعتراضات والی مثالیں موجود ہیں مگر ماضی ہو یا اب، بغیر کسی ثبوت کے ججز پر اعتراضات غلط ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں اور بیانات کے برعکس میرے خیال میں ‘حکومتی اتحاد کسی جج پر اعتراض نہیں کر رہے کہ ‘فلاں جج کو بنچ کا حصہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ہمیں شک ہے کہ وہ انصاف پر مبنی فیصلہ نہیں دیں گے‘ بلکہ وہ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس درخواست کے حوالے سے فل کورٹ بنایا جائے یعنی یہ ججز بھی شامل ہوں اور سپریم کورٹ کے جتنے اور ججز ہیں، انھیں بھی بنچ کا حصہ بنایا جائے۔‘

فیصل صدیقی کہتے ہیں کہ ماضی میں بھی جب اس قسم کے مقدمے کورٹ کے پاس آئے تو فل کورٹ، یا زیادہ لارجر بنچ یا سب سے سینئر ججز نے سنے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ابھی حالی میں قاضی فائز عیسیٰ نے بھی فل کورٹ کا مطالبہ کیا تھا اور ان کا کیس سننے کے لیے 10-11 ججز کا بنچ بنا تھا اور ان کا ماننا ہے کہ یہ کوئی غیرمعمولی مطالبہ نہیں ہے۔

فیصل صدیقی کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی ساکھ پر جو انگلیاں اٹھ رہی ہیں، وہ چاہے ایک پارٹی اٹھائے یا دوسری، اس کا واحد حل یہی ہے کہ اس نوعیت کے کیسز یا تو فل کورٹ یا سب سے زیادہ سینئیر جج سنیں۔