آڈیو لیکس: عمران خان کی سائفر سے متعلق آڈیو منظرِ عام پر

عمران خان

،تصویر کا ذریعہTwitter

پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان نے پاکستانی میڈیا پر امریکی مراسلے کے تناظر میں نشر ہونے والی اپنی گفتگو افشا کرنے کے لیے شہباز شریف حکومت کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔

شہباز شریف، مریم نواز اور وفاقی کابینہ کے ارکان کی آڈیوز کے بعد بدھ کو پاکستانی میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایک نئی آڈیو سامنے آئی ہے جس میں عمران خان اور ان کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کو امریکی ’دھمکی‘ سے متعلق مراسلے کے معاملے پر گفتگو کرتے سنا جا سکتا ہے۔

بدھ کو صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں اس آڈیو لیک کے بارے میں عمران خان کا کہنا تھا کہ 'یہ انھوں نے ہی لیک کی ہے، شہباز شریف نے ہی لیک کی ہے۔ بہت اچھا ہوا کہ لیک کی ہے۔ پورا سائفر ہی لیک ہو جائے، سب کے سامنے آ جائے تاکہ سب کو پتا چلے کہ کتنی بڑی بیرونی سازش ہوئی ہے۔‘

اس آڈیو کا آغاز عمران خان کی آواز سے ہوتا ہے اور وہ کہہ رہے ہیں کہ ’اچھا اب ہم نے صرف کھیلنا ہے، نام نہیں لینا امریکہ کا۔۔۔ بس صرف کھیلنا ہے اس کے اُوپر کہ یہ تاریخ پہلے سے تھی۔‘

جب ان سے سوال کیا گیا کہ وہ اس بیان کا دفاع کیسے کریں گے تو انھوں نے کہا کہ 'اس کے اوپر تو میں کھیلا ہی نہیں ابھی، اب یہ ایکسپوز کریں گے تو کھیلیں گے اس کے اوپر۔'

خیال رہے کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے 27 مارچ کو ایک بڑے جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے جیب سے ایک خط نکال کر لہراتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بیرونِ ملک سے ان کی حکومت گرانے کی سازش ہو رہی ہے اور انھیں ’لکھ کر دھمکی دی گئی ہے‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے خلاف آنے والی تحریکِ عدم اعتماد کا تعلق بھی اسی ’دھمکی آمیز خط‘ سے ہے۔

آڈیو میں سابق وزیرِ اعظم کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کو سائفر کے حوالے سے ایک میٹنگ بلانے کا مشورہ دیتے بھی سُنا جا سکتا ہے اور وہ اس اجلاس میں اس وقت کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی اور خارجہ سیکریٹری کو بلانے کے لیے کہتے ہیں۔

ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے سنے جا سکتے ہیں کہ اس اجلاس کے منٹس وہ خود تیار کریں گے جن میں اپنی مرضی کا تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔

اس حوالے سے پی ٹی آئی کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری کردہ پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’سائفر بھی حقیقت نکلا اور (عمران خان کے آڈیو میں موجود الفاظ) ’ہے تو بیرونی سازش ہی‘ گواہی ہے کہ کیوں ڈونلڈ لو نے کہا تھا کہ عمران خان کو نہ ہٹایا تو پاکستان کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@sayedzbukhari

جماعت کے رہنما فواد چوہدری کی جانب سے بھی کی گئی ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ ’نئی لیکس سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ امریکی مراسلہ وزیر اعظم سے چھپانے کی کوشش کی گئی۔‘

پی ٹی آئی کے ہی رہنما ذلفی بخاری نے اس حوالے سے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'عمران خان کی آڈیو مکمل طور پر ہمارے بیانیے کے مطابق ہے۔ سائفر کو وزیراعظم سے چھپایا گیا۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'اس آڈیو سے ہمارا موقف مزید مضبوط ہوا ہے'۔

’سکیورٹی پر بڑا سوالیہ نشان‘

عمران خان کی یہ مبینہ آڈیو سامنے آنے سے قبل 24 ستمبر کی شام وزیراعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزرا اور مریم نواز کی گفتگو کی آڈیوز بھی منظر عام پر آئی تھیں جس کے بعد سے ان کے بارے میں بھی بحث جاری ہے۔

گذشتہ روز وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس بارے میں کہا کہ ’یہ ایک اہم معاملہ ہے اور سکیورٹی پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔‘

’یہ وزیراعظم ہاؤس کی نہیں ریاست پاکستان کے وقار کی بات ہے۔ آئندہ پاکستان کے وزیراعظم سے ملنے آنے والے سوچیں گے کہ ہم پاکستان کے وزیر اعظم سے یہ بات کریں یا نہیں کیونکہ یہاں تو آواز ریکارڈ ہو رہی ہے۔‘

وزیر اعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’میں اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی بنا رہا ہوں جو اس کی تحقیقات کرے گی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

ان آڈیوز میں سے ایک میں شہباز شریف کے پرنسپل سیکریٹری توقیر شاہ کو انھیں مریم نواز کے داماد کے لیے مشینری کی انڈیا سے درآمد کے معاملے پر بات کرتے سنا جا سکتا ہے۔

توقیر شاہ اس آڈیو میں شہباز شریف کو اس بارے میں فیصلہ کرنے سے باز رہنے کا مشورہ دیتے سنے جا سکتے ہیں جس پر شہباز شریف انھیں مریم نواز کو معاملے کی نزاکت سے آگاہ کرنے کا حکم دیتے ہیں۔

منگل کو صحافیوں سے بات چیت میں آڈیو لیکس میں مریم نواز کے داماد کی مشینری انڈیا سے درآمد کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’مریم نے مجھ سے نہ کوئی سفارش کی، نہ فیور مانگی۔‘

یہ بھی پڑھیے

اُن کا کہنا تھا کہ ’مریم نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی بلکہ ڈاکٹر توقیر نے مجھ سے بات کی کہ مریم نواز کے داماد نے آدھی مشیینری جو پی ٹی آئی کے دور میں منگوا لی تھی، اس کی امپورٹ کا معاملہ ای سی سی میں جائے گا۔‘

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر توقیر سے 'میں نے کہا کہ میں مریم کو خود بتا دوں گا۔'

سویلین خفیہ ادارے کے اہلکاروں سے تحقیقات

ادھر حکومت کی جانب سے آڈیو لیکس کے معاملے پر باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کے شہزاد ملک کو بتایا کہ تحقیقاتی ٹیم نے ایک درجن سے زیادہ سویلین خفیہ ادارے کے ایسے اہلکاروں کے بیانات کو قلمبند کیا ہے جو وزیراعظم ہاؤس میں تعینات تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اہلکار کے مطابق جن افراد کے ابتدائی بیانات قلمبند کیے گئے ہیں ان میں ابھی تک وہی افراد شامل ہیں جو وزیراعظم ہاؤس میں میٹنگ روم کے گردو نواح میں تعینات ہوتے تھے یا اجلاس سے قبل وہ سکیورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے کمرے کی دیکھ بھال پر مامور تھے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم سپیشل برانچ کے ان اہلکاروں کو بھی طلب کر کے ان کے بیانات قلمبند کرے گی جو وزیراعظم ہاؤس کے گیٹ اور اندر تعینات ہوتے ہیں۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم ہاؤس اور ایوان صدر میں سکیورٹی کی ذمہ داری وزیر اعظم اور صدر کے ملٹری سیکرٹری کی ہوتی ہے اور ان کے بعد چیف سکیورٹی افسر اس کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔

وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ آڈیو لیکس سے متعلق تحقیقاتی ٹیم کی طرف سے تیار کی جانے والی ابتدائی رپورٹ بدھ کے روز قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں پیش کی جائے گی۔

وزیراعظم میاں شہباز شریف کی سربراہی میں ہونے والی اس کمیٹی کے اجلاس میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان کے علاوہ آئی بی اور آئی ایس آئی کے سربراہان، وزیر داخلہ، وزیر خزانہ اور وزیر اطلاعات شریک ہوں گی۔ وفاقی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری بیرون ملک ہونے کی وجہ سے ان کی اجلاس میں شرکت غیریقینی ہے۔