سائفر کیا ہوتا ہے اور وزیر اعظم ہاؤس سے غائب ہونے والی دستاویز کیا سائفر تھی؟

  • اعظم خان
  • بی بی سی اردو، اسلام آباد
عمران خان

،تصویر کا ذریعہTwitter

پیر کے روز توہین عدالت کے مقدمے کی کارروائی ختم ہونے سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ میں غیر رسمی گفتگو کے دوران ایک صحافی نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے سوال پوچھا کہ ’آپ سے سائفر کی جو کاپی غائب ہو گئی، واپس ملی یا نہیں؟‘ عمران خان سائفر سے متعلق اس سوال پر صرف قہقہہ لگا کر خاموش ہو گئے۔

واضح رہے سائفر کے غائب ہونے پر عمران خان، اُن کے سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان اور قریبی ساتھیوں کے خلاف آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت وفاقی کابینہ نے مقدمہ چلانے کی بھی منظوری دی ہے اور اس معاملے کی تحقیقات وفاقی تحقیقاتی ادارے ’ایف آئی اے‘ کے سپرد کی گئی ہیں۔

حال ہی میں عمران خان نے نجی ٹی وی چینل ’اے آر وائی‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سائفر کے غائب ہونے سے متعلق سوال پر جواب دیا کہ ’اگر تو وہ ڈی کلاسیفائی ہے، تو پھر اس کا چھاپہ مار کر کیا کرنا ہے۔ ایک میرے پاس تھا اور وہ غائب ہو گیا، کہیں ہو گیا، مجھے نہیں پتا۔‘

وفاقی وزیر برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ سائفر کو سیکرٹ ایکٹ کے تحت پبلک نہیں کیا جا سکتا ہے مگر عمران خان نے اس سائفر کو منٹس اور تجزیے میں تبدیل کیا اور اس کے ساتھ کھلواڑ کیا اور اس حوالے سے لیک ہونے والی آڈیوز کو عمران خان نے درست تسلیم کیا ہے۔

خیال رہے کہ موجودہ حکومت سائفر کا معاملہ قومی سلامتی کمیٹی اور وفاقی کابینہ کے اجلاسوں میں بھی ڈسکس کر چکی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز سے لاہور میں ہونے والی ایک پریس کانفرنس کے دوران سوال کیا گیا کہ حکومت کو چھ ماہ بعد کیوں پتا چلا کہ یہ سائفر وزیراعظم ہاؤس سے غائب ہے؟ اس پر مریم نواز نے جواب دیا کہ ’ہر روز تو کوئی بھی فائل اٹھا کر نہیں دیکھتا۔۔۔ جب اس کی ضرورت محسوس ہوئی تو پھر معلوم ہوا کہ یہ سائفر وزیراعظم ہاؤس سے غائب ہے۔‘

اس بحث کو مزید آگے بڑھانے سے پہلے یہ جانتے ہیں سائفر ہوتا کیا ہے اور یہ کس طرح اہم عہدیداروں کو بھیجا جاتا ہے۔ بی بی سی نے اس معاملے کو سمجھنے کے لیے دفتر خارجہ کے افسران، سابق سفارتکاروں اور قانونی ماہرین سے بات کی ہے۔

سائفر ہوتا کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

سائفر کسی بھی اہم اور حساس نوعیت کی بات یا پیغام کو لکھنے کا وہ خفیہ طریقہ کار ہے جس میں عام زبان کے بجائے کوڈز پر مشتمل زبان کا استعمال کیا جاتا ہے۔

کسی عام سفارتی مراسلے یا خط کے برعکس سائفر کوڈڈ زبان میں لکھا جاتا ہے۔ سائفر کو کوڈ زبان میں لکھنا اور اِن کوڈز کو ڈی کوڈ کرنا کسی عام انسان نہیں بلکہ متعلقہ شعبے کے ماہرین کا کام ہوتا ہے۔ اور اس مقصد کے لیے پاکستان کے دفترخارجہ میں گریڈ 16 کے 100 سے زائد اہلکار موجود ہیں، جنھیں ’سائفر اسسٹنٹ‘ کہا جاتا ہے۔

یہ سائفر اسسٹنٹ پاکستان کے بیرون ملک سفارتخانوں میں بھی تعینات ہوتے ہیں۔

اب سائفر کے معاملے کو سمجھنے کے لیے امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر اسد مجید کے دفتر واشنگٹن کا رُخ کرتے ہیں۔ اُن کی امریکی سفارتکار ڈونلڈ لو سے واشنگٹن میں ایک کھانے پر غیر رسمی ملاقات ہوئی تھی۔

اس ملاقات میں امریکی عہدیدار نے پاکستان سے متعلق اہم امور پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ اسد مجید نے یہ سمجھا کہ یہ گفتگو انتہائی اہمیت کی حامل ہے لہٰذا اس سے متعلق دفتر خارجہ کو آگاہ کرنا ضروری ہے۔

امریکہ میں پاکستانی سفیر نے سفارخانے میں تعینات سائفر اسسٹنٹ کے ذریعے اس ملاقات کے بارے میں اپنے پیغام کو کوڈ لینگوئنج میں بدلا اور اسے ’مخصوص ذریعے‘ سے اسلام آباد میں خارجہ سیکریٹری کے نام ارسال کر دیا۔ یہ مخصوص ذریعہ کوئی مشین فیکس، ٹیلی گرام، صوتی پیغام یا کچھ اور بھی ہو سکتا ہے اور اس کا دارومدار کسی بھی ملک کے زیر استعمال اس ٹیکنالوجی پر ہوتا ہے جو وہ اس سلسلے میں استعمال کرتے ہیں۔ یوں یہ سائفر پیغام اسلام آباد پہنچ گیا۔

یہاں یہ سائفر جیسے ہی موصول ہوا تو پھر دفترخارجہ نے اپنے سائفر اسسٹنٹ کی مدد طلب کی اور پھر اسے ڈی کوڈ کر لیا گیا۔ اس سائفر کو ڈی کوڈ کروانے کے بعد دفتر خارجہ کے اعلیٰ عہدیدار اس نتیجے پر پہنچے کہ اس سائفر کو ہر صورت چار اہم شخصیات کو بھیجنا لازمی ہے۔

یہ سائفر وزیراعظم، صدر مملکت، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کو بھیجا گیا۔

دفتر خارجہ کے حکام کے مطابق سائفر کی یہ تمام کاپیاں اصلی تصور کی جاتی ہیں اور ایک مہینے کے اندر سائفر کو واپس دفتر خارجہ بھیجنا ہوتا ہے۔ یہ کام اس وجہ سے بھی احسن انداز میں ہو جاتا ہے کہ وزیر اعظم کے دفتر میں بھی دفتر خارجہ کے اہم دو سے تین افسران تعینات ہوتے ہیں جو اس ’کمیونیکیشن‘ کو یقینی بناتے ہیں۔

دفتر خارجہ کو آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی اور صدر مملکت کو بھیجی گئی کاپیاں تو دفتر خارجہ کو موصول ہو گئی ہیں مگر وزیراعظم کو بھیجا گیا سائفر دفترخارجہ کو موصول نہیں ہوا، جس سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا کہ کہیں اس کا کوڈ کمپرومائز تو نہیں ہو گیا ہے یا کہیں یہ سائفر کسی دوسرے ملک کے ہاتھ تو نہیں لگ جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتی حلقوں میں بھی اس حوالے سے تفتیش پائی جاتی ہے۔

سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پیر کو نجی ٹی وی چینل اے آر وائی کو بتایا کہ عام طور پر ایسی کلاسیفائیڈ دستاویزات کو پبلک نہیں کیا جاتا۔ تاہم ان کے مطابق یہ سائفر ابھی بھی ایوان صدر اور دفتر خارجہ میں موجود ہے۔ ان کے مطابق حکومت کا یہ تاثر دینا کہ سائفر غائب ہو گیا ہے یہ درست نہیں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اگر سائفر کو عام کر دیا جائے تو پھر اس کے کوڈ کو محفوظ بنا دیا جاتا ہے۔ سابق وزیرخارجہ نے کہا کہ ان کی حکومت نے سائفر کو پبلک نہیں کیا۔

ان کے مطابق یہ سائفر ’غیر گردشی‘ تھا اور خارجہ سیکریٹری کے نام پر موصول ہوا تھا۔

ان کے مطابق یہ سائفر وہ سابق وزیراعظم عمران خان کے نوٹس میں لائے تھے جس کے بعد اس حوالے سے اجلاس منعقد کیا گیا۔ ان کے مطابق خارجہ سیکریٹری نے اس سائفر کو اجلاس میں پیش کیا۔

خیال رہے کہ بیرون ملک مشنوں سے موصول ہونے والے سائفرز عام طور پر دو قسم کے ہوتے ہیں ایک غیر گردشی اور دوسرے عمومی طور پر وہ ہوتے ہیں جنھیں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔

غیر گردشی سائفرز کو مخصوص ایڈریسز (مخصوص افراد) کے لیے نشان زد کیا جاتا ہے اور بھیجنے والا سفیر فیصلہ کرتا ہے کہ یہ کسے وصول ہونا چاہیے۔ البتہ سیکریٹری خارجہ، ادارے کا سربراہ ہونے کی وجہ سے یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ ایسی ڈپلومیٹک کیبل یا سائفر کس کس کو بھیجا جا سکتا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کے مطابق اس سائفر کو منٹس اور تجزیے میں تبدیل کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا۔ ان کے مطابق آڈیوز کو عمران خان نے تسلیم کیا ہے اور ان کی تردید جاری نہیں کی ہے۔

عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’اب کاغذ بدلو، منٹس بدلو، غائب کرو (یہ آپ کی حکمت عملی رہی ہے اور) اسی کھیل میں (عمران خان نے) آئین توڑا، قومی سلامتی کے مفاد کے ساتھ کھیلا۔‘

’یہ پریشانی کی بات نہیں ہے، یہ اصلی سائفر نہیں ہوتا‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

دفتر خارجہ کی سابق ترجمان تسنیم اسلم کے مطابق دفتر خارجہ کی مختلف اصلاحات ہیں مگر بنیادی طور پر سائفر بھی ٹیلی گرام، خط یا فیکس ہی کی ایک شکل ہوتی ہے۔ سابق سفارتکار کے مطابق پوری دنیا میں حکومتیں ایسے سائفرز کو پبلک بھی کر دیتی ہیں۔

ان کے مطابق اس کی ایک وجہ یہ ہوتی ہے کہ دفترخارجہ کوئی بھی سائفر، ٹیلی گرام یا مراسلہ پیرافریزنگ کے بعد ہی مختلف دفاتر کو بھیجتا ہے یعنی الفاظ اور پیراگراف کی ترتیب تبدیل کر دی جاتی ہے یعنی ماسٹر کاپی دفتر خارجہ میں ہی رہتی ہے اور باقی عہدیداروں کے پاس پیغام منٹس اور تجزیے کی صورت میں پہنچتے ہیں۔

سیکریٹری خارجہ اس حوالے سے خود وزیراعظم کو بریفنگ بھی دیتے ہیں۔

ان کے مطابق ’پیرافریزنگ‘ کا عمل اس وجہ سے کیا جاتا ہے تا کہ کوڈ کسی کی سمجھ میں نہ آ سکے مگر جو پیغام ہوتا ہے وہ احسن انداز میں پہنچا دیا جاتا ہے۔

تسنیم اسلم کے مطابق جب یہ اصل دستاویز ہی نہیں ہے تو پھر ایسے میں یہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا معاملہ بھی نہیں بنتا۔

ان کے مطابق دفتر خارجہ اور ملک کے چیف ایگزیکیٹو کو نہ صرف اسے ڈی کلاسیفائی کرنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے بلکہ وہ اس سے قبل بھی سائفر، ٹیلی گرام یا مراسلے کی تبدیل شدہ کاپی کسی بھی ریاستی یا حکومتی عہدیدار کو بھیج سکتا ہے، جس نے وطن اور آئین سے وفاداری کا حلف اٹھایا ہوتا ہے۔

تسنیم اسلم کے مطابق جب کوئی سائفر بھیجا جاتا ہے تو پروٹوکول کے تحت ایسے سائفر کا تجزیہ کیا جاتا ہے اور پہلے نمبر پر صدر مملکت کو بھیجا جاتا ہے اس کے بعد وزیراعظم، پھر وزیرخارجہ اور پھر سیکریٹری خارجہ کا نمبر آتا ہے۔ ان کے مطابق اس کے بعد یہ دفتر خارجہ کی صوابدید ہوتی ہے کہ وہ جسے مناسب سمجھے بھیج دے۔

تسنیم اسلم کے مطابق سائفر کی ماسٹر کاپی تو دفتر خارجہ کے پاس ہی رہتی ہے۔ تاہم اگر کسی وجہ سے کوئی سائفر نہ چاہتے ہوئے پبلک ہوجائے تو پھر کوڈ تبدیل کیے جاتے ہیں اور اس حوالے سے دفترخارجہ ضروری اقدامات اٹھاتا ہے۔

عمران خان کا مؤقف کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہPTI

اتوار کو ٹیکسلا میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے مریم نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’اب نیا ڈرامہ ہو رہا ہے کہ سائفر گم گیا ہے، مریم بی بی سائفر گم نہیں ہوا کیونکہ پتا چل جائے گا کہ آپ کے والد (سابق وزیراعظم نواز شریف) اور چاچا (وزیراعظم شہباز شریف) نے امریکیوں کے ساتھ مل کر سازش کر کے ہماری حکومت گرائی، اب دفتر خارجہ سے پوچھیں وہاں پر سائفر کی ماسٹر کاپی موجود ہے۔‘

خیال رہے کہ مریم نواز نے گذشتہ ماہ 29 ستمبر کو ایون فیلڈ ریفرنس میں بریت کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اس کمیٹی میں آئی ایس آئی اور آئی بی کے نمائندے بھی شامل ہوں جو عمران خان، اعطم خان، شاہ محمود قریشی اور اسد مجید سے تحقیقات کریں کہ سائفر کی حقیقت کیا ہے۔

یکم اکتوبر کو نجی ٹی وی چینل اے آر وائی کو ایک انٹرویو میں عمران خان نے کہا تھا کہ سائفر میں جو بھی باتیں آئی ہیں، میں اُن کا ذکر جلسوں میں کر چکا ہوں، یہ اس وقت آیا جب او آئی سی کا اجلاس ہونے جا رہا تھا، ہم نے فیصلہ کیا کہ اجلاس سے قبل سائفر معاملے کو سامنے نہ لایا جائے۔

ان کے مطابق سائفر ایشو سے متعلق بتایا کہ جب قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ڈی مارش کرنے اور امریکی سفارتکار کی مذمت کرنے کی منظوری دی گئی تو امریکہ کا نام سامنے آیا۔

عمران خان کے مطابق سائفر کی ایک کاپی صدر مملکت اور آرمی چیف کے پاس بھی ہے۔ ان کے مطابق صدر مملکت نے اپنی کاپی چیف جسٹس کو بھیجی تھی۔

آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت کارروائی کیسے آگے بڑھائی جاتی ہے، جرم ثابت ہونے پر کتنی سزا سنائی جا سکتی ہے؟

قانونی ماہرین کے مطابق عمران خان، اُن کے سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان سمیت دیگر ساتھیوں کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ایف آئی اے اس وقت باقاعدہ کارروائی کا آغاز کرے گا جب وفاقی حکومت اس حوالے سے شکایت درج کرائے گی۔

فوج کے قانونی شعبے ’جیگ‘ برانچ کے سابق بریگیڈیئر واصف خان نیازی نے بی بی سی کو بتایا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ برطانوی دور میں سنہ 1923 میں بنایا گیا قانون ہے۔

ان کے مطابق اس قانون کی دفعہ تین کے تحت زیادہ سے زیادہ سزا 14 برس یا سزائے موت ہے۔

ان کے مطابق اس دفعہ کے تحت اگر کسی نے قومی مفاد کے خلاف اہم معلومات، منصوبہ یا مراسلہ کسی دشمن یا غیر ملک کو دیا تو پھر ایسی صورت میں یہ سزا سنائی جا سکتی ہے۔ مگر صرف دستاویز اپنے پاس رکھنا یا کہیں سے حاصل کر لینے کی پاداش میں تین برس تک سزا سنائی جا سکتی ہے۔

بریگیڈیئر واصف نیازی کے مطابق یہ ٹرائل ایک مجسٹریٹ کے سامنے یا سیشن کورٹ میں چلتا ہے اور شکایت باقاعدہ درج ہونے کے بعد اگر ایف آئی اے کسی کو گرفتار کرتی ہے تو ایسے میں ملزم سیشن کورٹ سے ضمانت حاصل کر سکتا ہے۔

ان کے مطابق چونکہ یہ سائفر وفاقی کابینہ نے پبلک کر دیا ہے تو ایسے میں اس مقدمے میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ لاگو نہیں ہوتا۔

کرنل انعام الرحیم بھی جیگ برانچ میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس سے قبل فوج آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ٹرائل کرتی تھی۔

ان کے مطابق معروف شاعر احمد فراز کا بھی فوج نے ٹرائل شروع کیا تھا، جسے ہائی کورٹ نے مسترد کر دیا تھا۔ واضح رہے کہ جب حال ہی میں کرنل انعام کو بھی آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مبینہ طور پر اغوا کیا گیا تو ہائی کورٹ نے احمد فراز والے فیصلے کی نظیر دیتے ہوئے ان کے ٹرائل کو غیرقانونی قرار دیا تھا۔

کرنل انعام کے مطابق عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو اس مقدمے میں فوری ضمانت مل جائے گی کیونکہ یہ ٹرائل اب فوج نے نہیں کرنا ہے۔ ان کے مطابق جس مقدمے میں ضمانت مل جائے تو پھر ایسا کیس ویسے ہی کمزور پڑ جاتا ہے۔ ان کی رائے میں فوج نے متعدد ایسے ٹرائل کیے ہیں مگر جمہوری حکومتوں کو ایسے مقدمات قائم کرنے میں احتیاط برتنی چاہیے۔

آڈیو لیکس میں سابق وزیر اعظم کے پرسنل سیکریٹری اعظم خان منٹس تبدیل کرنے کی بات کی تھی، جس پر وفاقی حکومت نے تحقیقات کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایف آئی اے نے نہ صرف وزیر اعظم ہاؤس سے غائب سائفر کی تحقیقات کرنی ہیں بلکہ اس بات کا بھی تعین کرنا ہے کہ کہیں اعظم خان نے سائفر پر ہونے والے اجلاسوں میں منٹس میں ردوبدل تو نہیں کیا ہے۔ کیا سکیریٹری خارجہ کی بریفنگ یا قومی سلامتی اجلاس میں ہونے والی کارروائی کے منٹس میں گڑ بڑ تو نہیں کی گئی۔

واضح رہے کہ عمران خان یا اعظم خان کی طرف سے ابھی تک اس آڈیو لیک سے متعلق کوئی تردید سامنے نہیں آئی ہے۔ عمران خان نے وزیر اعظم کی سیکیور لائن کی ریکارڈنگ پر نہ صرف تشویش کا اظہار کیا ہے بلکہ اے آر وائی کو دیے گئے انٹرویو میں یہ بھی بتایا ہے کہ اعظم خان سے ہونے والی بات چیت شاید ایک کمرے میں کی گئی تھی اور دوسری آڈیو لیک جس میں اسد عمر اور شاہ محمود قریشی بھی موجود تھے وہ شاید فون پر بات ہو رہی تھی۔