آڈیو لیکس: کیا مبینہ آڈیو لیکس عمران خان کی مقبولیت پر اثر انداز ہوں گی؟

  • سحر بلوچ
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
عمران خان

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@PAKPMO

حالیہ دنوں میں یکے بعد دیگرے کئی آڈیو لیکس منظرِ عام پر آنے کے بعد سے پاکستان کے سیاسی حلقوں میں تہلکہ مچ چکا ہے۔ وزیرِ اعظم ہاؤس سے مبینہ طور پر لیک ہونے والی اس آڈیو بات چیت کو ہر سیاسی جماعت اپنے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہ رہی ہے۔

جمعے کے روز نامعلوم ذرائع سے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی ایک اور مبینہ آڈیو لیک سامنے آئی ہے، جس میں انھیں اپنے کابینہ کے رکن سے مبینہ طور پر 'ہارس ٹریڈنگ' کے بارے میں بات کرتے سنا جا سکتا ہے۔

اس سے پہلے وزیرِ اعظم شہباز شریف، مریم نواز اور کابینہ کے دیگر ارکان کی آڈیو لیکس منظرِ عام پر آنے کے بعد کسی قسم کی تردید نہیں کی گئی۔ وزیر برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے اپنے بیان میں کہا کہ ’اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کچھ غیر قانونی نہیں ہوا۔‘

جس سے یہ تاثر ملا کہ وزیرِ اعظم ہاؤس میں سیاستدانوں کی بات چیت کی ریکارڈنگ غیر قانونی طریقے سے ہوتی رہی ہے۔

اس سے پہلے پاکستان تحریکِ انصاف کے رکن اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے دعویٰ کیا تھا کہ ہیکر نے بات چیت کی ریکارڈنگ ڈارک ویب پر بیچ دی ہے۔ لیکن عمران خان کی مبینہ طور پر نئی آڈیو لیک آنے کے بعد ان کا کہنا ہے کہ ’لوگ جانتے ہیں کہ یہ آڈیو کون کہاں سے لیک کر رہا ہے۔‘

لیکن جمعے کے روز سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی ایک اور آڈیو لیک ہونے کے بعد یہ سلسلہ تھمتا ہوا نظر نہیں آ رہا۔

ان آڈیو لیکس کے سامنے آنے کے بعد عمران خان کے ’بیرونی سازش‘ کے بیانیے کو حکومتی جماعت مسلم لیگ نواز کی جانب سے رد کیا جا رہا ہے۔

مسلم لیگ ن کی طرف سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عمران خان نے جن باتوں کو بنیاد بنا کر دھرنے اور جلسے کیے وہ 'جھوٹ پر مبنی ہیں۔'

کیا ان آڈیو لیکس سے عمران خان کے بیانیے کی مقبولیت پر کوئی فرق پڑا ہے؟

اس بارے میں صحافی اور تجزیہ کار عنبر رحیم شمسی نے کہا کہ قطرہ قطرہ کر کے عمران خان کے بیانیے کو دھچکا لگ رہا ہے۔

’جو لوگ عمران خان پر یقین رکھتے ہیں اور ان کے بیانیے کو مانتے ہیں اور ان کے حامی ہیں، وہ ان آڈیو لیکس میں وہ ہی سنیں گے جو عمران خان چاہتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

انھوں نے کہا کہ ’جو تشریح عمران خان پیش کریں گے وہ (ان کے حامی) اسی پر یقین کریں گے۔ اور تشریح یہ کی جا رہی ہے کہ آڈیو لیکس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سائفر ایک حقیقت ہے اور جو لوگ اسے ایک سازش قرار دے رہے تھے وہ غلط ثابت ہوئے۔‘

وہ کہتی ہیں ’لیکن اگر آپ اس کو غور سے سنیں، اس میں جو عمران خان کہتے ہیں وہ کھیلیں گے، جب ان کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کہتے ہیں کہ منٹس آف میٹنگ پر ہم اپنی مرضی کی تشریح ڈال سکتے ہیں یا اگر آپ سنیں جو ان کی اپنی کابینہ کے ارکان کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک بیانیہ بنانا تھا کیونکہ ان کو لگ رہا تھا کہ وہ اقتدار سے جانے والے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ان دو آڈیو لیکس سے دھچکا نہیں پڑے گا اور ایسا ان کے جلسوں میں خاص طور سے پنجاب میں دکھائی دیتا ہے جہاں لوگ ان کے جلسوں میں جوق در جوق پہنچ رہے ہیں اور ان کی باتیں اب بھی سن رہے ہیں۔‘

لیکن وہ لوگ جنھیں اس معاملے میں غیر جانبدار کہا جاسکتا ہے، ان کے ذہن میں حالیہ آڈیو لیکس کے بعد شک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔

مثال کے طور پر عمران خان نے یہ واضح طور پر کہا کہ امریکہ کا نام مت لینا۔لیکن پھر ایک تقریب میں انھوں نے لائیو نشریات میں امریکہ کا نام لے لیا۔ اور اپنی ہی کہی ہوئی بات پر انھیں ہنسی بھی آ گئی کہ انھوں نے اپنی کہی ہوئی بات کے خلاف بات کر دی۔

عمران خان نے امریکہ میں اپنا تاثر بہتر کرنے کے لیے ایک فرم کا سہارا لیا ہے جبکہ پاکستان میں اپنے متعدد بیانات میں وہ امریکہ کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں اور ان پر اپنے خلاف سیاسی سازش کرنے کا الزام بھی عائد کرتے رہے ہیں۔

ان کے ناقدین سمجھتے ہیں کہ ان متضاد بیانات کا مطلب ہے کہ وہ باتوں کو سیاسی طور پر گھما کر پیش کرتے ہیں اس لیے وہ ان کے بیانات کو سیاسی ہی سمجھتے ہیں۔ لیکن جو عمران خان کے حامی ہیں اور ان کو ووٹ دیتے ہیں وہ ان کی کہی ہوئی بات کو مانتے آئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

'عمران خان کی بات کی تصدیق ہو گئی'

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر اور پی ٹی آئی کے رکن اسد عمر نے کہا کہ ’مسلم لیگ ن کس بات کو بنیاد بنا کر عمران خان کے بیانیے کو رد کر رہی ہے؟ ان آڈیو لیکس سے تو عمران خان کے بیانیے کی تصدیق ہوئی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اگر وزیرِ اعظم ہاؤس سے سابق وزرا کی بات چیت کی غیر قانونی طور پر ریکارڈنگ لیک کی جا رہی ہے اور وہ ریکارڈنگ مارکیٹ میں سرِ عام دستیاب ہے تو یہ ایک بہت بڑے درجے پر سکیورٹی کی ناکامی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ 'اس بات کی تحقیقات ہونی چاہیے کہ یہ کس نے ریکارڈ کیا اور کیسے لیک کیا اور یہ کس کی ذمہ داری بنتی ہے۔ کیونکہ یہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن کا مسئلہ نہیں ہے، یہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ بطور وزیرِ اعظم عمران خان نے کبھی اس بات کا خدشہ ظاہر نہیں کیا کہ ’وزیر اعظم ہاؤس کے اندر بیٹھنے کے بجائے سیاسی میٹنگ باہر لان میں رکھی جائیں۔

'ہاں اگر موسم اچھا ہو اور باہر بیٹھنا مناسب لگ رہا ہو تو ایسا کیا گیا ہے کہ میٹنگ باہر کی گئی ہو لیکن بطور وزیرِ اعظم انھوں نے ایسا خدشہ ظاہر نہیں کیا کہ انھیں خطرہ ہے کہ میٹنگ سنی جا رہی ہے۔‘

،ویڈیو کیپشن

آڈیو لیکس: عمران خان کی مقبولیت اور بیرونی سازش کے بیانیے پر کیا اثر پڑا؟

آڈیو لیک ہونا سکیورٹی اداروں میں رابطے کی کمی ہے؟

کیا وزیرِ اعظم ہاؤس سے آڈیو لیک ہونا سکیورٹی اداروں جیسے کہ آئی ایس آئی اور آئی بی کے درمیان کوآرڈینیشن کی کمی ظاہر کرتی ہے؟

سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'اس بات میں کوآرڈینیشن کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک مجرمانہ عمل ہے اور خاص طور سے وزیرِ اعظم کے دفتر میں یہ واقعہ رونما ہوا ہے تو اس کی بہت سنجیدہ نوعیت ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

عوام کی رائے کیا ہے؟

بی بی سی نے اسلام آباد میں مختلف لوگوں سے بات کر کے جاننے کی کوشش کی کہ کیا امریکی سازش سے متعلق عمران خان کی آڈیو لیک کے بعد ان کی مقبولیت پر اثر پڑا ہے؟ تو زیادہ تر نے کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

پرائمری سکول کی طالبعلم نے کہا کہ ’عمران خان پر اس آڈیو لیک کا اثر اس لیے نہیں پڑے گا کیونکہ وہ ہر وقت سچ بولتے ہیں اور سچائی کا ساتھ دیتے ہیں۔‘

جبکہ ایک اور شہری نے کہا کہ اس سے 'ان کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہو گا۔‘

ایک خاتون شہری نے کہا کہ ان کے خیال میں ’یہ (آڈیو) لیک اسی لیے کروائی گئی ہے تاکہ ان کی مقبولیت میں کمی ہو۔ لیکن ایسا عارضی طور پر تو ہو گا لیکن اس کا کوئی مستقل اثر عمران حان پر نہیں پڑے گا۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ عرصے کے لیے حزبِ اختلاف ان باتوں کا فائدہ اٹھائے لیکن اس کے بعد وہ دوبارہ مقبول ہو جائیں گے۔‘

جب عوام سے پوچھا گیا کہ یہ ریکارڈنگ کون کرتا ہے اور کون لیک کرتا ہے، تو ایک شہری کا کہنا تھا کہ ’دیکھیں مختلف طریقے ہوتے ہیں آپ کے فون ٹیپ ہوسکتے ہیں، کمروں میں مائیکروفون ہو سکتے ہیں۔‘

جبکہ ایک خاتون شہری کا کہنا تھا کہ ’یہ ان کے اپنے ہی کرتے ہیں، اور کوئی نہیں کر سکتا۔‘ ایک دکاندار نے کہا کہ ’یہ لیک کرنے والے اپنے ہی لوگ ہوتے ہیں، کسی اور کی تو ان مقامات تک رسائی نہیں ہوتی۔‘

ایک اور شہری کا کہنا تھا کہ ’جب سکیورٹی پر مامور افراد کو نہیں پتا کہ وزیرِ اعظم ہاؤس سے (ریکارڈنگ) کون لیک کر رہا ہے تو ہم کیسے بتا سکتے ہیں کہ یہ کس کا کام ہے؟‘