توشہ خانہ ریفرنس میں نااہلی: کیا عمران خان اب الیکشن میں حصہ لے سکیں گے؟

  • اعظم خان
  • بی بی سی اردو، اسلام آباد
عمران خان

،تصویر کا ذریعہPID

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے جمعے کے روز توشہ خانہ ریفرنس میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو نااہل کیا تو ایک بحث نے جنم لیا کہ آخر عمران خان کی یہ نااہلی کتنے عرصے کے لیے ہے اور کیا اب وہ آئندہ عام انتخابات میں حصہ لے سکیں گے یا نہیں؟

اس ابہام کی ایک وجہ الیکشن کمیشن کی جانب سے مکمل تحریری فیصلہ جاری نہ کرنا ہی جس کی عدم موجودگی میں حکومت اور تحریک انصاف اپنی اپنی تشریح کر رہے ہیں۔

الیکشن کمیشن کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ عمران خان کی نااہلی پانچ برس کے لیے ہے یعنی اب عمران خان آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہوں گے۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے کچھ رہنماؤں کے خیال میں الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کا اطلاق عمران خان کی موجودہ قومی اسمبلی کی نشست پر ہو گا مگر جو کامیابی انھیں ضمنی انتخابات میں ملی ہے وہ اس فیصلے سے متاثر نہیں ہو گی۔

اس رائے پر یقین رکھنے والوں میں سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری اور ان کے چھوٹے بھائی فیصل چوہدری ہیں، جو اکثر تحریک انصاف کے رہنماؤں کے خلاف مقدمات کی مختلف عدالتوں میں پیروی کرتے نظر آتے ہیں۔

عمران خان کے قریبی قانونی مشیر حامد خان جہاں وزیر قانون کی تشریح سے اختلاف رکھتے ہیں وہیں وہ جہلم کے چوہدری برادران کی رائے سے متفق ہیں اور نہ ہی پارٹی کے سینیئر رہنما شاہ محمود قریشی کی اس رائے سے کہ الیکشن کمیشن کا یہ دائرہ اختیار ہی نہیں بنتا تھا۔

حامد خان نے بی بی سی کو بتایا الیکشن کمیشن کا درجہ ایک ٹرائیبیونل کا ہے اور یہ کہ کمیشن کو نیم عدالتی اختیارات (کوازآئی جوڈیشل پاورز) حاصل ہوتے ہیں جن کے تحت کمیشن ایسے مقدمات سننے کا مجاز ہے۔

،تصویر کا کیپشن

عمران خان کی نااہلی کے بعد تحریک انصاف کے کارکنان نے مختلف شہروں میں احتجاج کیا

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

ان کے مطابق الیکشن کمیشن کے فیصلے سے عمران خان نہ صرف اپنی نشست سے محروم ہو چکے ہیں بلکہ ضمنی انتخابات میں جیتی جانے والی تمام چھ نشستوں سے بھی اب نااہل ہو گئے ہیں۔

تاہم نااہلی کی مدت سے متعلق حامد خان کی رائے یہ ہے کہ یہ موجودہ اسمبلی کی مدت تک رہے گی اور اگلے عام انتخابات میں عمران خان انتخابات لڑنے کے اہل ہوں گے۔

یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’وہ فیصلہ سپریم کورٹ نے توہین عدالت ثابت ہونے پر دیا تھا کیونکہ اس وقت کے وزیراعظم نے عدالت کے حکم کے باوجود اس وقت کے صدر آصف زرداری کے خلاف سوئس حکام کو دوبارہ مقدمات کی تحقیقات کرنے سے متعلق خط نہیں لکھا تھا۔‘

سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل اکرم شیخ کے مطابق عمران خان کی نااہلی پانچ برس تک کے لیے ہوئی ہے۔ ان کے مطابق یوسف رضا گیلانی کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ان کی نااہلی الیکشن کمیشن نے ہی کی تھی۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے کیس میں سپریم کورٹ سے قصوروار قرار دیے جانے کے بعد پانچ برس کے لیے نااہل قرار دیا تھا۔

،تصویر کا کیپشن

عمران خان کی نااہلی کے فیصلے کے خلاف تحریک انصاف کے کارکنان کے احتجاج کے مناظر

اکرم شیخ کے مطابق آئین میں پانچ سال کی نااہلی کا ذکر تو موجود ہے مگر تاحیات نااہلی کا کوئی تصور نہیں ہے۔

ان کے مطابق وہ جہانگیر ترین کے خلاف درخواست دائر کرنے والے ن لیگ کی رہنما حنیف عباسی کے وکیل تھے مگر انھوں نے کبھی بھی عدالت سے جہانگیر ترین کو تمام عمر کے لیے نااہل کر دینے کا ریلیف نہیں مانگا تھا کیونکہ ’آئین میں ایسی گنجائش ہی موجود نہیں ہے۔‘

خیال رہے کہ حالیہ دنوں میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے تاحیات نااہلی کو کالا قانون قرار دیا تھا۔

تاہم اکرم شیخ کے مطابق چیف جسٹس تو خود اس بینچ کا حصہ تھے جس نے ’ایک مخصوص شخص‘ (سابق وزیراعظم نواز شریف) کے لیے تاحیات نااہلی کی تشریح کی تھی۔

حامد خان یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ آئین میں نااہلی کی مدت پانچ سال درج ہے مگر ان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے جو فیصلہ سنایا ہے اس کے تحت ’اس نے خود عمران خان کی نااہلی کو موجودہ اسمبلی کی مدت سے جوڑ دیا ہے جو کہ اگست 2023 تک بنتی ہے یعنی عام انتخابات میں عمران خان انتخابی اکھاڑے میں ہوں گے۔‘

ان کے مطابق آئین کا آرٹیکل 62 اہلیت جبکہ 63 نااہلی سے متعلق ہے۔

،تصویر کا ذریعہMaaz Tariq

،تصویر کا کیپشن

پشاور میں تحریک انصاف کے کارکنان الیکشن کمیشن کے فیصلے خلاف احتجاج کر رہے ہیں

یہ بھی پڑھیے

اکرم شیخ کے مطابق ’نااہلی کا تعلق ایک امیدوار سے ہوتا ہے اس لیے اسے ایسے فیصلے کے نتائج بھگتنے پڑتے ہیں۔ انھوں نے اس دلیل کو مضحکہ خیز قرار دیا کہ عمران خان ضمنی انتخابات میں جیتی نشست سے اسمبلی کے رکن رہ سکتے ہیں۔‘

ان کے مطابق اس فیصلے کو معطل کرانے کے لیے تحریک انصاف کو عدالتوں کو ٹھوس شواہد دینے ہوں گے کیونکہ الیکشن کمیشن نے جو فیصلہ دیا ہے وہ حقائق کی جانچ پڑتال کے بعد دیا ہے۔

اکرم شیخ کے خیال میں ’عمران خان کو یہ بتانا ہو گا کہ جس پیسے سے انھوں نے تحائف خریدے تھے وہ پیسہ کہاں سے آیا تھا اور کیا انھوں نے اپنے گوشواروں میں اس کا ذکر کیا تھا یا نہیں۔‘

’اسی طرح انھیں یہ بھی تسلی کرانا ہوگی کہ جو تحائف فروخت کیے تھے ان کا پیسہ بھی ظاہر کیا گیا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہ@PTIOFFICIAL

الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد رہنما پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی نے بنی گالا میں عمران خان کی سربراہی میں ہونے والے ایک اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت کا جو منصوبہ ہے کہ وہ عمران خان کو سیاست سے مائنس کر دیں گے، وہ منصوبہ سرے نہیں چڑھ سکے گا۔‘

ان کے مطابق الیکشن کمیشن کے پاس وہ اختیار ہی نہیں تھا جو اس نے فیصلہ کیا ہے اور یہی وجہ ہے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کے لیے سینیٹر علی ظفر کو پیٹیشن تیار کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

سابق وزیر خارجہ کے مطابق ’پہلے انھوں نے ایک سازش اور مداخلت کے ذریعے حکومت کو رخصت کیا اور لوگوں نے اس فیصلے کو مسترد کر دیا، اس کے بعد عوامی رابطہ ہوا اور اس میں عمران خان کے جلسے ہوئے، اسمبلی میں تو آپ نے وفاداریاں تبدیل کرا دیں مگر اس سے ظاہر ہوا کہ عوام کی وفاداری تبدیل نہیں ہو سکی‘۔

واضح رہے کہ عمران خان کہہ چکے ہیں کہ وہ جلد حکومت کے خلاف لانگ مارچ کا بھی اعلان کریں گے۔